سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 86

سيرة النبي علي 98 86 جلد 1 کرتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ صلى الله الأغدَاءِ 30 رسول کریم ﷺ ہمیشہ خدا سے پناہ مانگتے تھے کہ مجھ پر کوئی ایسی مصیبت نہ آئے جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو۔کوئی ایسا کام نہ پیش آ جائے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو۔اور کوئی خدا کا فیصلہ ایسا نہ ہو کہ جس کو میں نا پسند کروں۔اور کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو کہ جس سے میرے دشمنوں کو خوشی کا موقع ملے۔اس دعا سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کے دل میں کیسی خشیت الہی تھی اور آپ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیسا کمزور جانتے اور کبھی اپنی بڑائی کے لیے اور اپنے ایمان کے اظہار کے لیے کسی بڑے کام یا ابتلا کی آرزو نہ فرماتے۔اور یہی حقیقی ایمان ہے جس کی اقتدا کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ - رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دعا بھی ہے جو آپ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے طلب فرماتے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل پر کس قدر خوف الہی تھا۔ابو موسی فرماتے ہیں آپ ہمیشہ دعا فرماتے تھے کہ اَللَّهُمَّ اغْفِرُ لِي خَطِيئَتِيْ وَجَهْلِي وَإِسْرَافِى فِى أَمْرِى وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَى اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِى هَزَلِى وَجدِى وَخَطَئِي وَعَمْدِى وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِی 31 اے اللہ ! میرے اعمال کے نتائج بد سے مجھے محفوظ رکھ اور میری خطاؤں کے نتائج سے بھی۔میں اگر اپنی نا واقفیت کی وجہ سے کوئی کام جو کرنا ہو نہ کروں یا کوئی کام جس حد تک مناسب تھا اُس سے زیادہ کر بیٹھوں اور جسے تو میری نسبت زیادہ جانتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی مجھے محفوظ رکھ۔اے اللہ ! اگر کوئی بات میں بے دھیان کہہ بیٹھوں یا متانت سے کہوں، غلطی سے کہوں یا جان کر کہوں اور یہ سب کچھ مجھ میں ممکن ہے۔پس تو ان میں سے اگر کسی فعل کا نتیجہ بد نکلتا ہو تو اُس سے مجھے محفوظ رکھیو۔حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کی ایک اور دعا بھی بیان فرماتی ہیں اور وہ بھی