سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 84

دیا تھا تو پھر آپ کو کونسی چیز مانع ہوئی کہ نماز پڑھاتے رہتے۔حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا (ابوقحافہ حضرت ابوبکر کے والد تھے ) پھر آپ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آۓ اسے چاہئے کہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو خود ہی اسکی طرف توجہ ہوگی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔اس حدیث سے اگر چہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک امر کی طرف متوجہ کرنا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت کی تمام عمر کی کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے۔خود تو جس طرح آپ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔آپ کی آمد کی اطلاع دینے کے لئے اگر صحابہ نے تالیاں بجائیں تو یہ ان کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاع عام کے لئے یا متوجہ کرنے کے لئے لوگ تالیاں بجاتے ہیں آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کوئی بات پسند آئے تو اس پر تالیاں پیٹتے ہیں تا کہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو کہ یہ حصہ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے پس تالیاں بجانا اس کام کے لئے رائج ہے لیکن رسول کریم کی یاد الہی سے محبت دیکھو کہ آپ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہوتی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اس ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات اور جوشوں کے اظہار کے لئے بجائے تالیاں بجانے کے 84