سیرت النبی ؐ — Page 78
اور غیر کا مقابلہ ہو جائے آپ بے اختیار ہو جاتے ہیں محبت ایسا جوش مارتی ہے کہ رنگ ہی اور ہو جاتا ہے۔سننے والے کا دل ایک ایسی وابستگی پاتا ہے کہ آپ ہی کا ہمرنگ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی وہ عظمت بیان کرتے ہیں کہ دل بے اختیار اس پر قربان ہونا چاہتا ہے وہ ہیبت بیان کرتے ہیں کہ بدن کانپ اٹھتا ہے وہ جلال بیان کرتے ہیں کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ایسا خوف دلاتے ہیں کہ مؤمن انسان کا دل تو خوف کے مارے پگھل ہی جاتا ہے پھر ایسی شفقت و محبت کا بیان کرتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جاتے ہیں اور گری ہوئی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اللہ اللہ آپ کے عام کلام کا مقابلہ اگر اس کلام سے کریں کہ جس میں بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو زمین و آسمان کا فرق معلوم دیتا ہے گویا خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کا رواں رواں اس کی طرف جھک جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کے احسانات کو یاد کرنے لگتا ہے اور زبان ان کی ترجمان ہوتی ہے۔نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم سے سنا کہ فرماتے تھے اَلْحَلَالُ بَينَ وَالْحَرَامَ بَيِّنْ وَبَيْنَهُمَا مُشَبهاتْ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرَ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِى الشُّبْهَاتِ كَرَاعِ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوْشِكُ أَنْ يُوَاقِعَه أَلَا وَإِنَّ لِكُلِ مَلَكِ حِمَى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلَّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ ( بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر الدينه ) حلال بھی بیان ہو چکا ہے اور حرام بھی بیان ہو چکا اور ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو کوئی شبہات سے بچے اس نے اپنی عزت اور دین کو بچالیا اور جو کوئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے ارد گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے قریب ہے کہ 78