سیرت النبی ؐ — Page 203
ہیں کیا اس تعمل والا انسان ظالم یا مغلوب الطلب ہو سکتا ہے۔کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہو سکتا ہے۔عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطرناک دشمن کو شکست دے کر واپس آ رہا ہے۔ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھوٹا ز بر دست سے زبردست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیں۔اور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدان جنگ سے واپس آرہا ہے مگر کس شان سے اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔کچھ عرب آکر آپ سے سوال کرتے ہیں اور پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں کہ کچھ لئے بغیر نہیں لوٹیں گے آپ بار بارا نکار کرتے ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔پھر اور پھر سوال کرتے ہیں اور باوجود آپ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیں ضرور کچھ دلوایا جائے مگر آپ باوجود اس شان کے کہ سارے عرب کو آپ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی ان سے کیا سلوک کرتے ہیں ان کے بار بار کے سوال سے ناراض نہیں ہوتے۔ان پر خفگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ورنہ ضرور ان کو بھی دیتے۔لیکن وہ لوگ پھر بھی مصر ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ کیا اس لئے نہیں کہ کل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوں کو اس کے پاس جس زور سے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہوگا۔بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہوگا پھر کیا اس لئے نہیں کہ آپ کے اخلاق حسنہ اور آپ کے حسن سلوک کا دنیا میں ایسا شہرہ تھا که بادیہ نشین عرب بھی اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہو گا۔ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپ پر اس قدر 203