سیرت النبی ؐ — Page 10
کا کتنا لحاظ رکھتے تھے جو آپ کی پاک فطرت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت انسانی میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دینا رکھا ہے اور اکثر ممالک کے باشندے باوجود آپس میں کوئی تعلق نہ رکھنے کے اس معاملہ میں متحد ہیں اور دائیں کو بائیں پر ترجیح دیتے ہیں۔اور چونکہ آنحضرت سلی ما اینم کی فطرت نہایت پاک تھی اس لئے آپ نے اس بات کی بہت احتیاط رکھی۔ایک اور حدیث بھی آپ کی اس عادت پر روشنی ڈالتی ہے۔سہل ابن سعد فرماتے ہیں کہ آتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ غُلَامَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالَّا شَيَاحُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا غُلَامُ اتَأذُنَ لِى اَنْ أعْطِيَهُ الْأَشْيَاحَ قَالَ مَا كُنتُ لِأَوْثِرَ بِفَضْلِی مِنكَ أَحَداً يَا رَسُوْلَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ) فَأَعْطَاهُ إِيَّاه ( بخاری کتاب المساقاة باب في الشرب ) آنحضرت سانی لا الہ نام کے پاس ایک پیالہ لا یا گیا جس میں سے آپ نے کچھ پیا۔اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک نوجوان بیٹھا تھا جو سب حاضرین مجلس میں سے صغير السن تھا اور آپ کے بائیں طرف بوڑھے سردار بیٹھے تھے۔پس آپ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ اے نوجوان کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں یہ پیالہ بوڑھوں کو دوں۔اس نوجوان نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے تبرک کے معاملہ میں کسی اور کے لئے اپنا حق نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر آپ نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دائیں طرف کا ایسا لحاظ رکھتے کہ بائیں طرف کے بوڑھوں کو پیالہ دینے کے لئے آپ نے اول اس نوجوان سے اجازت طلب فرمائی اور اس کے انکار پر اس کے حق کو تسلیم کیا۔ہر معاملہ میں خدا کا ذکر لاتے :- آپ کو خدا تعالیٰ سے کچھ ایسی محبت اور پیار تھا کہ کوئی معاملہ ہو اس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ضرور کرتے۔اٹھتے بیٹھتے ہوتے جاگتے ، کھاتے پیتے، غرض کہ ہر موقع پر خدا کا نام 10