سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 168

رَاحِلَتَهُ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَارَسُوْلَ اللهِ فَاَبِىٰ رَسُوْلُ اللَّهِ أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلْ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ وَيَقُوْلُ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرَ هَذَا أَبَر رَبَّنَا وَأَطْهَرُ وَيَقُوْلُ اللَّهُمَّ إِنَّ الأجْرَاجْرُ الْآخِرَةِ فَارْحَم الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ بخاری باب هجرة النبي صَلَّى الله عليه وسلم واصحابه الى المدينه ) یعنی پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بنی عمرو بن عوف کے پاس سے جہاں آپ سب سے پہلے آکر ٹھہرے تھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور لوگ بھی آنحضرت کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی اونٹنی اس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرت کی مسجد بنائی گئی اور اس جگہ ان دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نامی دولڑکوں کی کھجوریں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولایت میں تربیت پارہے تھے۔پس رسول اللہ صلی ایلیم نے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی فرمایا کہ ان شاء اللہ یہاں ہمارے رہنے کی جگہ ہوگی۔پھر رسول اللہ ی تم نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا کہ وہاں آپ مسجد تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔مگر رسول اللہصلی ا یہی تم نے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ ان دنوں لڑکوں نے وہ زمیں فروخت کر دی۔پھر آپ نے وہاں مسجد بنانی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپ خود بھی صحابہ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں بلکہ اے ہمارے خدا یہ 168