سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 80

اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی خوف نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اس کی نافرمانی سے کچھ نقصان نہ ہو گا لیکن رسول کریم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی اصل ناراضگی ہے اور انسان کو چاہئے کہ نہ صرف گناہوں سے بچے بلکہ ان کاموں سے بھی بچے کہ جن کے کرنے میں شک ہو کہ یہ جائز ہیں یا نا جائز کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان کاموں کے کرنے پر ہلاک ہو جائے اور وہ اسے خدا تعالیٰ کے رحم کے استحقاق سے محروم کر دیں۔خدا تعالیٰ کے نام پر یہ جوش اور اس قدر اظہار خوف و محبت ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں محبت الہی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ ہر ایک انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا اندازہ بھی کر سکے۔ذکر الہی کی تڑپ : - پچھلی مثال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاد الہی کے وقت آپ کو کس قدر جوش آتا اور کس قدر محبت سے مجبور ہو کر آپ کے کلام میں خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔اب میں ایک اور واقعہ بتا تا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد کا نہایت ہی شوق تھا اور آپ عبادات کے بجالانے میں گمائق، مشغول رہتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لئے آپ نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابو بکر نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لئے نکلے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَانَى انْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخَطَّانِ الْأَرْضَ مِنَ الوَجْعِ فَأَرَادَ اَبُوْ بَكْرٍ أَنْ يَتَا خَرَفَأَوْ مَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ثُمَّ أَتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَىٰ جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلَّى وَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِ وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرِ 80