سیرت النبی ؐ — Page 242
نہ ملے گا لیکن رسول کریم کی نسبت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے واقف کارصحابی جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو اُن کو سلام کہتے تھے۔اس شہادت میں آپ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے اول یہ کہ آنحضرت سی پیام انکسار کے اس اعلی درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپ کو عار نہ تھا۔دوم یہ کہ آپ ان کو سلام کہنے میں ابتداء کرتے تھے۔سوم یہ کہ ایک یادو دفعہ کی بات نہیں آپ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔اب اس شہادت سے ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بچوں کے ساتھ اس انکسار کے ساتھ پیش آتا تھا، وہ جوانوں کے ساتھ کس انکسار کے ساتھ معاملہ کرتا ہوگا اور اس کا نفس خودی اور تکبر سے کس حد تک پاک ہوگا۔میں اس امر کی اور بہت سی مثالیں پیش کرتا لیکن چونکہ میں نے اس کتاب میں صرف ان مثالوں سے آپ کی سیرت پر روشنی ڈالنے کا ارادہ کیا ہے جو بخاری میں پائی جاتی ہیں اس لئے اس وقت اسی مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔شروع سے ہی آپ کی طبیعت ایسی تھی۔آپ کی منکسرانہ طبیعت کے متعلق جو مثال میں نے دی ہے شاید اس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ گو امراء اس منکسر انہ طبیعت کے نہیں ہوتے لیکن چونکہ علاوہ بادشاہت کے آپ کو نبوت کا بھی دعوی تھا اور نبوت کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر قسم کے لوگوں سے تعلق رکھے اس لئے ممکن ہے کہ نعوذ باللہ آپ تکلف سے ایسا کرتے ہوں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ اعتراض درست ہے لیکن رسول کریم سی شمالی تم پر نہیں پڑ سکتا اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تکلف کی بات ہمیشہ عارضی ہوتی ہے تکلف سے انسان جو کام کرتا ہے اس پر سے کسی نہ کسی وقت پر دہ اٹھ جاتا ہے لیکن جیسا کہ پہلی 242