سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 231

باعث سے پیدا ہو جاتی ہیں۔کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کی جھگڑالو اور فسادی طبیعت کا نتیجہ ہوتی ہے اور کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کو لڑائی اور جھگڑے کا عادی بنادیتی ہے لیکن آپ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ بہادر تھے لیکن آپ کی بہادری ایک نیک خلق کے طور پر تھی اور با وجود بہادر اور میدان کا رزار میں ثابت قدم رہنے والا ہونے کے آپ کو کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ہر ایک معاملہ کو سہولت سے طے کرتے اور اگر کسی کو لڑ تادیکھتے بھی تو اس حرکت سے اسے روک دیتے چنانچہ آپ کی اس نفرت کا یہ اثر تھا کہ صحابہ جنہیں رسول کریم صلی ا یتیم کے آخری زمانہ میں جنگ و جدل کے ساتھ ہی واسطہ پڑا رہتا تھا کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے نہ تھے اور ان کی طبیعت میں سختی اور درشتی پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ ہر ایک ایسے واقعہ پر رسول کریم صلی لا یتم ان کو روک دیتے تھے۔برخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر میدان جنگ کے بہادر مختلف لڑائیوں اور جھگڑوں سے بجائے گھبرانے کے ان میں مزا حاصل کرتے ہیں اور کئی لوگ تو خود لڑائی کرا کے تماشہ دیکھتے ہیں مگر رسول کریم صلی ہی ہم عمر بھر باوجود بے نظیر بہادری کے لڑائیوں اور جھگڑوں سے سخت نفرت کرتے رہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے اندر ایک اور ہی روح تھی جو کام کر رہی تھی اور آپ اس دنیا کے لوگوں سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ آپ آسمانی انسان تھے جس کا ہر کام آسمانی تھا۔رسول کریم صلی یا پریتم کی تمام زندگی ہی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ لڑائی جھگڑے کو سخت نا پسند فرماتے تھے لیکن اس جگہ میں ایک دو مثالیں بھی دیتا ہوں جن سے آپ کے پاکیزہ نفس کا پتہ چلتا ہے۔عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْبِرَ نَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ، فَقَالَ: خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فَلَانْ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ، 231)