سیرت النبی ؐ — Page 89
حسن سلوک کے بدلہ میں اس کے نام کا ورد نہ کروں؟ اس کی بندگی میں کوتاہی شروع کر دوں؟ کیا اخلاص سے بھرا اور کیسی شکر گزاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپ کے قلب مطہر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے خدا کی یاد اور اس کے ذکر کی یہ تڑپ اور کسی کے دل میں ہے۔کیا کوئی اور اس کا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔کیا کسی اور قوم کا بزرگ آپ کے اس اخلاص کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ میں اس مضمون کے پڑھنے والے کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس عبادت کے مقابلہ میں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ آپ کس طرح کا موں میں مشغول رہتے تھے اور یہی نہیں کہ رات کے وقت عبادت کے لئے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دن بھر سوئے رہتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر اس شوق اور تڑپ کا پتہ نہ لگتا جو اس صورت میں ہے کہ دن بھر بھی آپ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اطاعت و فرمانبرداری کا رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔خود پانچ اوقات میں امام ہو کر نماز پڑھاتے تھے دور دور کے جو وفوداورسفراءآتے تھے ان کے ساتھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے۔صحابہ کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے۔حج بھی خود تھے تمام دن جس قدر جھگڑے لوگوں میں ہوتے ان کا فیصلہ کرتے۔عتمال کا انتظام، بیت المال کا انتظام ، ملک کا انتظام، دین اسلام کا اجراء اور پھر جنگوں میں فوج کی کمان، بیویوں کے حقوق کا ایفاء۔پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہونا یہ سب کام آپ دن کے وقت کرتے اور ان کے بجالانے کے بعد بجائے اس کے کہ چچور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھا ئیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہو ا ہوتا 89