سیرت النبی ؐ — Page 88
آپ کے پاؤں سوج جاتے صحابہ عرض کرتے یا رسول اللہ اس قدر عبادت کی آپ کو کیا حاجت ہے آپ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں اس کا جواب آپ یہی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں اِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمَ لِيُصَلِّي حتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُوْلُ اَفَلَا كُوْنُ عَبْدًا شَكُورًا ( بخاری کتاب الجمعه باب قیام النبی ﷺ اللیل) رسول کریم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے قدم ( یا کہا ) پنڈلیاں سوج جاتیں۔لوگ آپ سے جب کہتے ( کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ) تو آپ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اللہ اللہ کیا عشق ہے کیا محبت کیا پیار ہے خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا خون کا دوران نیچے کی طرف ہو جاتا ہے اور آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے ہیں لیکن محبت اس طرف خیال ہی نہیں جانے دیتی آس پاس کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کرتے کیا ہیں اور آپ کے درد سے تکلیف محسوس کر کے آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں اور کیوں اپنے آپ کو اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اس قدر دکھ اٹھاتے ہیں آخر کچھ تو اپنی صحت اور اپنے آرام کا بھی خیال کرنا چاہئے مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور جس سے دیکھنے والے متاثر ہو جاتے ہیں۔آپ پر کچھ اثر نہیں کرتا اور عبادات میں کچھ ستی کرنے اور آئندہ اس قدر لمبا عرصہ اپنے رب کی یاد میں کھڑے رہنا ترک کرنے کی بجائے آپ ان کی اس بات کو نا پسند کرتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں وہ مجھ پر اس قدر احسان کرتا ہے اس قدر فضل کرتا ہے اس شفقت کے ساتھ مجھ سے پیش آتا ہے پھر کیا اس کے اس 88