سیرت النبی ؐ — Page 87
میں نے بہت آدمی دیکھے ہیں کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون بے سامان یا فخر اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا و مافیھا ان کی نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے بڑے سے بڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا ہے خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادات ہم نے کی ہیں گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے کہ ہم نے اس کی عبادت کی ورنہ اگر عبادت نہ کرتے تو وہ کیا کر لیتا جو لوگ اس طرز کے نہیں ہوتے ان میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں کہ عبادت کر کے کچھ تکبر ضرور آ جاتا ہے اور بہت ہی کم ہیں کہ جو عبادت کے بعد بھی اپنی حالت پر قائم رہیں اور یہی نیکوں کا گروہ ہے پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سردار اور نبیوں کے سر بر آوردہ حضرت رسول کریم صلی یاتم کا کیا حال ہو گا۔آپ تو گل خوبیوں کے جامع اور کل نیکیوں کے سرچشمہ تھے عبادت کسی تکبر یا بڑائی کے لئے کرنا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی بجالاتے اتنی ہی ان کی آتش شوق تیز ہوتی اور آپ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپناممنون احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہوتے کہ الہی اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔آپ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہے کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گزارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی توفیق دی اس احسان کا شکر بجالا نا ضروری ہے اس جذ بہ ادائیگی شکر سے بے اختیار ہو کر کچھ اور عبادت کرتے اور پھر اسے بھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجالا نا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو۔پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی اور پھر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جاتے اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا کہ بار ہا عبادت کرتے کرتے 87