سیرت النبی ؐ — Page 86
طرح اگر کوئی شخص کوئی عمدہ کام کرے تو اس میں بھی سبحان اللہ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے یہ کام جو کسی سے سرزد ہوا ہے یا یہ قول جو کسی کی زبان پر جاری ہوا ہے اپنی خوبی اور حسن میں خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔غرض کہ سبحان اللہ کا کلمہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لئے توجہ دلائی جاتی ہے اور افسوس اور خوشی دونوں کا اظہار اس سے ایسی عمدگی سے ہوتا ہے جو اور کسی کلمہ سے نہیں ہو سکتا۔پس اس کلمہ کے مقابلہ میں تالیاں بجانا اور سیٹیاں مارنا بالکل لغو اور بے فائد ہے اور ان لغو حرکات کے مقابلہ پر ایسا پاک کلمہ رکھ دینا رسول کریم کی ہی پاک طبیعت کا کام تھا ورنہ ہزاروں سال سے اس لغو حرکت کو روکنے کی کسی اور کے دل میں تحریک نہیں ہوئی ہاں صرف رسول کریم ہی ہیں جو اس نکتہ تک پہنچے اور آپ نے ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینے کی تعلیم دے کر ثابت کر دیا ہے کہ آپ ہر ایک موقع پر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا پسند فرماتے اور اسی کا ذکر آپ کے لئے غذا تھا۔اس واقعہ کے علاوہ بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے چنانچہ چھینک پر، کھانا شروع کرتے وقت، پھر ختم ہونے کے بعد ہوتے وقت ، جاگتے وقت نمازوں کے بعد، کوئی بڑا کام کرتے وقت، وضو کرتے وقت غرضیکہ اکثر اعمال میں آپ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہی ذکر الہی میں زیادہ مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الہی میں مشغول رہیں جو کہ آپ کے کمال محبت پر دال ہے۔86