سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 85

سبحان اللہ کہہ دیا کریں۔کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہوگا۔یہ وہ حکمت و فلسفہ ہے جسے دنیا کے کسی رہنما اور ہادی نے نہیں سمجھا اور کوئی مذہب نہیں جو اس حکم کی نظیر پیش کر سکے کہ اس نے بھی بجائے لغویات کے لوگوں کو ایسی تعلیم کی طرف متوجہ کیا ہو کہ جو ان کے لئے مفید ہو سکے تالیاں بجانا بے شک جذبات انسانی کا ترجمان تو ہوسکتا ہے لیکن وہ ایسا ہی ترجمان ہے کہ جیسے ایک گونگے کے خیالات کا ترجمہ اس کے اشارات ہو جاتے ہیں کیونکہ تالیاں بجانے سے صرف اسی قدر معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی جوش ہے اور یہ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ کسی کو غلطی پر دیکھ کر اسے اس کی غلطی پر متنبہ کر نا چاہتا ہے لیکن اس سے زیادہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا لیکن رسول کریم سایہ تم صرف اسی پر اکتفانہ کر سکتے تھے آپ ایک طرف تو گل لغویات کو مٹانا چاہتے تھے دوسری طرف آپ کے دل میں یہ جوش موجزن رہتا کہ خدا تعالیٰ کے نام کی کثرت ہو اور ہر ایک مجلس اور مقام میں اسی کا ذکر کیا جائے اس لئے آپ نے بجائے ان بے معنی اشارات کے جن سے گو اشارة حصول مطلب ہو جا تا تھا ایسے الفاظ مقرر کئے کہ جن سے نہ صرف حصول مطلب ہوتا ہے بلکہ انسان کی روحانیت میں ازدیاد کا باعث ہے اور عین موقع کے مناسب ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا ذکر بھی ہو جاتا ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ انسان جب کبھی کسی ھے کی طرف توجہ کرتا ہے اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے یا پسندیدگی کے باعث تو ان دونوں صورتوں میں سبحان اللہ کے کلمہ کا استعمال نہایت با موقع اور بامحل ہے۔اگر کسی انسان کے کسی فعل کو نا پسند کرتا ہے تو سبحان اللہ اس لئے کہتا ہے کہ آپ سے کوئی سہو ہؤا ہے۔سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جاتا ہے اسی 85