سیرت النبی ؐ — Page 83
الصَّلوةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِ فَصَفَقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتْ فِي صَلَوتِهِ فَلَمَّا اكْثَرَ النَّاسُ التَصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثُ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرِيَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ اَبُوْ بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّهِ وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبَتَ إِذْ أَمَرْتَكَ فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قَحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالِيَ رَاتَيْتَكُمْ أَكْثَرَ تُمُ التَصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَيْئَ فِي صَلُوتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَحَ التَفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا اتَّصْفِيقُ لِلنَّسَاءِ (بخاری کتاب الآذان باب من دخل لينوم الناس) رسول كريم صلی تم بنی عمرو بن عوف میں گئے تا کہ ان میں صلح کراوئیں پس نماز کا وقت آگیا اور مؤذن حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھوائیں گے۔میں اقامت کہوں آپ نے جواب دیا کہ ہاں پھر حضرت ابوبکر نماز کیلئے کھڑے ہوئے اتنے میں رسول کریم تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ تصف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے ( تا حضرت ابوبکر کو معلوم ہو جائے) لیکن حضرت ابوبکر نماز میں دوسری طرف کچھ توجہ نہ فرماتے جب تالیاں پیٹنا طول پکڑ گیا تو آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریم تشریف لائے ہیں رسول کریم صلی یا تم نے آپ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو اس پر حضرت ابوبکر نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزت افزائی پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور حمد کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم سیا سیستم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابوبکر جب میں نے حکم 83