سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 79

اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔خبر دار ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے خبر دار اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں۔خبر دار جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جاتا ہے۔خبر دار اور وہ گوشت کا ٹکڑا قلب ہے۔اس عبارت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی یا ایلم کے دل میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک دریا امڈ رہا تھا۔آپ دیکھتے تھے کہ ایک دنیا اس پاک ہستی کے احکام کو توڑ رہی ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے محتر ز ہے لوگ اپنے نفوس کے احکام کو مانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے ارشادات کی تعمیل نہیں کرتے۔پھر آپ کو خدا تعالیٰ سے جو محبت تھی اس کے رو سے آپ کب برداشت کر سکتے تھے کہ لوگ اس پیارے رب کو چھوڑ دیں۔ان خیالات نے آپ پر یہ اثر کیا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ دنیاوی بادشاہوں کی اطاعت کے بغیر انسان سکھ نہیں پاسکتا تو پھر اس قادر مطلق کی نافرمانی پر کب سکھ پاسکتا ہے جوسب بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔میں جب مذکورہ بالا حدیث کو پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ آپ کس جوش کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں بناوٹ سے یہ کلام نہیں نکل سکتا اس خالص محبت کا ہی نتیجہ تھا جو آپ خدا سے رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو اس قدر جوش آجاتا اور آپ چاہتے کہ کسی طرح لوگ ان نافرمانیوں کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگ جائیں۔اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو حیرت تھی کہ لوگ کیوں اس طرح دلیری سے ایسے کام کر لیتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو۔جس کام میں کسی حاکم کی ناراضگی کا خیال ہو۔لوگ اس کے کرنے سے بچتے ہیں لیکن 79