سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 61

دینا چاہتا ہے بلکہ دوسو اونٹ کا انعام جو اسے اپنی قوم میں ایک بہت بڑا رتبہ دینے کے لئے کافی تھے اس کی ہمت کو اور بھی بلند کر دیتا ہے جس طرح شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر لپکتا ہے اسی طرح وہ رسول کریم کو دیکھ کر آپ کی طرف لپکتا ہے اور تیر کمان ہاتھ میں لے کر چاہتا ہے کہ آپؐ پر وار کرے وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک نعرہ مار کر وہ اپنے اردگرد ہزاروں آدمیوں کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ رسول کریم اس وقت اسی کے علاقہ سے گزررہے ہیں۔لیکن آپ اس وقت کیا کرتے ہیں کیا بھاگ جاتے ہیں کیا ڈر کر اپنے آپ کو اس کے سپر د کر دیتے ہیں کیا آپ کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں۔کیا ان کے حواس بیکار ہو جاتے ہیں۔کیا اسے قتل کر کے راہ فرار اختیار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں نہیں وہ خدا پر توکل کرنے والا انسان ان میں سے ایک بات بھی نہیں کرتا اور سراقہ کی اتنی پر واہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے حضرت ابوبکر باوجود اس جرات اور بہادری کے باوجود اس ایمان اور یقین کے باوجود اس تو کل اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نز دیک آ گیا ہے لیکن رسول کریم اس کی پر واہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑ نا تو الگ خوف و ہراس کا اظہار تو جدا آپ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا جس نے سراقہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کہ میں کس انسان کا پیچھا کر رہا ہوں اور وہ مذت العمر اس نظارہ کو اپنے حافظہ سے نہیں مٹا سکا بلکہ اس خلاف معمول واقعہ نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ ہمیشہ اسے بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتْ وَاَبُوْبَكْرِ يُكْثِرُ الْإِلْتِفَاتَ ( بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي و اصحابه الى المدينة) یعنی میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریم کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ میں رسول کریم کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا اور 61