سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 57

طرح آپ اپنے دعاوی سے باز آجائیں لیکن باوجود ان مشکلات کے آپ نے صحابہ کو تو ہجرت کا حکم دے دیا مگر خود ان دکھوں اور تکلیفوں کے باوجود مکہ سے ہجرت نہ کی کیوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اذان نہ ہوا تھا۔چنانچہ جب حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ میں ہجرت کر جاؤں تو آپ نے جواب دیا۔عَلی رِسُلِكَ فَإِنَّىٰ أَرْ جُوَ أَنْ يُؤْذَنَ لِی آپ ابھی ٹھہریں امید ہے کہ مجھے بھی اجازت مل جائے۔اللہ اللہ کیا پاک انسان تھا۔دکھ پر دکھ تکالیف پر تکالیف پہنچ رہی ہیں سب ساتھیوں کو حکم دے دیتا ہے کہ جاؤ جس جگہ امن ہو چلے جاؤ لیکن خودا اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور باوجود مخالفت کے اس بات کا منتظر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم آئے تو میں اس پر کار بند ہوں۔کیا کسی انسان میں یہ ہمت ہے یا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف ایسا متوجہ ہو کہ ایسے خطر ناک مصائب کے اوقات میں بھی دشمنوں کی مخالفت کو برداشت کرتا جائے اور جب تک خدا کا حکم نہ ہوا اپنی جگہ نہ چھوڑے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دعوئی ہی نہیں ہے بلکہ واقعہ میں آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک کہ خدا کی طرف سے حکم نہ ہوا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلْ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِعَافِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِيَنَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِدَاءَ لَهُ أَبِيْ وَأَمَىٰ وَاللَّهِ مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذَاهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْزِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرِ أَخْرِجْ مَنْ عِندَكَ فَقَالَ أَبُوْ بَكْرِإِنَّمَا هُمْ أَهْلَكَ بِأَبِي أَنْتَ يَارَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أَذِنَ لِي فِي الْخَرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ الصَّحَابَةَ بِأَبِيْ أَنْتَ يَارَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعْم ( بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي ﷺ و اصحابه الى المدينة) صلى الله عليه 57