سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 56

بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے مگر جب کوئی غریب چوری کرتا تو اس کا ہاتھ قطع کر دیتے۔مگر میرا یہ حال ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کا خدا سے کیا تعلق تھا اور واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں خلیفہ تھے کیونکہ خلیفہ اسی کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا میں جاری کرے اور یہ رسول کریم ہی تھے کہ جو بغیر کسی کے خوف ملامت کے حدود اللہ کا قیام کرتے اور کسی کی رعایت نہ کرتے۔رسول کریم صلای یتیم کے جو تعلقات اللہ تعالیٰ سے تھے اور جس طرح آپ نے خدا سے معاملہ صاف رکھا ہوا تھا اس پر یہ بات بھی روشنی ڈالتی ہے کہ آپ اپنے تمام کاموں میں پہلے یہ دیکھ لیتے کہ خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ ہوتا آپ کسی کام کے کرنے پر دلیری نہ کرتے۔چنانچہ مکہ سے باوجود ہزاروں قسم کی تکالیف کے آپ نے ہجرت نہیں کی ہاں صحابہ کو حکم دے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو ہجرت کر جائیں اور لوگوں کی شرارت کو دیکھ کر صحابہ کو ہجرت کرنی بھی پڑی اور بہت سے صحابہ حبشہ کو اور کچھ مدینہ کو ہجرت کر گئے اور صرف حضرت ابوبکر اور حضرت علی اور رسول کریم یا اور چند صحابہ مکہ میں باقی رہ گئے۔کفار مکہ کو دوسرے لوگوں کی نسبت رسول کریم صلی شام سے فطرتاً زیادہ بغض وعداوت تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ آپ ہی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں شرک کی مخالفت پھیلتی جاتی تھی۔وہ جانتے تھے کہ اگر وہ آپکو قتل کر دیں تو باقی جماعت خود بخود پراگندہ ہو جائے گی اس لئے یہ نسبت دوسروں کے وہ آنحضرت گوزیادہ دکھ دیتے اور چاہتے کہ کسی 56