سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 55

قانون کی خلاف ورزی کے اپنے جتھے کی مدد سے اپنے جرائم کے اثر سے بچ جاتے ہیں۔آنحضرت مال یتیم کی غیرت دینی :- ان قوموں میں جن کے اخلاق گر جاتے ہیں اور جن کے افراد میں طرح طرح کی بدیاں آجاتی ہیں ان میں خصوصا یہ رواج عام ہو جا تا ہے کہ بڑے لوگ قانون کے خلاف عمل کر کے بھی بچ جاتے ہیں اور صرف غربا ء ہی سزا پاتے ہیں۔رسول کریم سال ہی تم اس بات کے سخت مخالف تھے اور آپ کا جو معاملہ خدا کے ساتھ تھا اور جس طرح آپ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہتے تھے اس کے لحاظ سے آپ کبھی پسند نہ کرتے تھے کہ احکام شریعت سے امراء کو مستی کر کے غرباء ہی کو اس کا مکلف سمجھا جائے بلکہ آپ باوجود ایک رحیم دل اور ہمدردطبیعت رکھنے کے ہمیشہ احکام شریعت کے جاری کرنے میں محتاط رہتے اور مجرمین کو سزا سے بچنے نہ دیتے اور جس طرح آپ مغرباء کو سزا دیتے امراء بھی اسی طرح احکام شریعت کے ماتحت جکڑے جاتے اور اس معاملہ میں آپ بڑے غیور تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اَنَّ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي مَحْزُوْمٍ سَرَقَتْ فَقَالُوْ مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِى أَحَدٌ أَنْ تُكَلِمَهُ فَكَلَّمَهُ أَسَامَةَ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَنِيَ إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفَ تَرَكُوْهُ وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفَ قَطَعُوْهُ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعَتْ يَدَهَا ( بخاری کتاب المناقب باب ذكر اسامه بن زید) بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اس پر لوگوں نے چاہا کہ کون ہے جو رسول کریم سے اس عورت کے معاملہ میں سفارش کرے لیکن کسی نے اس کی جرأت نہ کی ( کیونکہ رسول کریم حدود کے قائم کرنے میں بڑے سخت تھے ) آخر اسامہ بن زید نے رسول کریم سے ذکر کیا مگر آپ نے جواب دیا کہ 55