سیرت النبی ؐ — Page 51
ہو گئے اور پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چل دیا۔میں ایک بارید بینہ کے بازار میں جا رہا تھا اتنے میں ملک شام کا ایک ( نصرانی ) کسان ملا جو مدینہ میں اناج بیچنے لا یا تھا وہ کہ رہا تھا لوگو کعب بن مالک کو بتلاؤ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اس نے عنسان کے بادشاہ کا ( جو نصرانی تھا) ایک خط مجھ کو دیا مضمون یہ تھا۔مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے پیغمبر صاحب نے تم پر ستم کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے نہ بریکار ( تم تو کام کے آدمی ہو) تم ہم لوگوں سے آن کر مل جاؤں ہم تمہاری خاطر مدارت بخوبی کریں گے۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو ( اپنے دل میں کہنے لگا ) یہ ایک دوسری بلاء ہوئی۔میں نے وہ خط لے کر آگ کے تنور میں جھونک دیا۔ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ نام کا پیغام لانے والا ( خزیمہ بن ثابت) میرے پاس آیا کہنے لگا آنحضرت کا یہ حکم ہے تم اپنی جو رو عمیرہ بنت جبیر ) سے بھی الگ رہو۔میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق دے دوں یا کیسا کروں اس نے کہا نہیں اس سے الگ رہو صحبت وغیرہ نہ کرو۔میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم کیا۔آخر میں نے اپنی جورو سے کہہ دیا نیک بخت تو اپنے کنبے والوں میں چلی جا۔وہیں رہ جب تک اللہ میرا کچھ فیصلہ نہ کرے (وہ چلی گئی ) کعب نے کہا ہلال ابن امیہ کی جورو ( خولہ بنت عاصم ) آنحضرت کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ہلال ابن امیہ ( میرا خاوند ) بوڑھا پھونس ہے اگر میں اس کا کام کرتی رہوں تو کیا آپ اس کو برا سمجھتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں کام کاج کرنے میں قباحت نہیں ) پر وہ تجھ سے صحبت نہ کرے اس نے کہا خدا کی قسم وہ تو کہیں چلتا پھرتا بھی نہیں ہے جب سے یہ واقعہ ہوا ہے تب سے برابر رو دھو رہا ہے آج تک وہ اسی حال میں ہے کعب نے کہا مجھ سے بھی میرے بعض عزیزوں نے کہا تم بھی اگر اپنی جورو کے باب میں 51