سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 25

خدا تعالیٰ کے غناء سے خوف :- بڑوں اور چھوٹوں میں کیا فرق ہوتا ہے جن کے پاس کچھ ہوتا ہے وہ کیسے منکسر المزاج ہوتے ہیں۔آنحضرت سی سی ایم جیسے انسان اور ختم نبوت کا دعوی، قرآن شریف جیسی کتاب اتر رہی ہے۔نصرت الہی کی وہ بھر مار ہے کہ دشمن و دوست حیران ہیں۔ہر گھڑی پیار و محبت کے اظہار ہورہے ہیں۔حتی کہ بارگاہ خداوندی سے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهِ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ الله ( آل عمران : ۳۲) کا حکم جاری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی شان میں فرماتا ہے کہ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِثْمَايُبَايِعُونَ الله (الفتح: 1) اور اسی طرح ارشاد ہوتا ہے کہ دنا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدَنی ( انجم:۱۰) لیکن خشیت الہی کا یہ حال ہے کہ آپ فرماتے ہیں واللهِ مَا أَدْرِى وَانَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ في خدا کی قسم میں نہیں جانتا با وجود اس کے کہ میں خدا کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔سچ ہے کہ جسے جتنا قرب شاہی نصیب ہوتا ہے اسی طرح وہ خائف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ادھر تو اس بادشاہ دو جہاں کا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں یہ کمال تھا ادھر ہم آجکل فقراء کو دیکھتے ہیں کہ ذرا کوئی بات ہوئی اور کہتے ہیں کہ الٹا دوں طبقہ زمین و آسمان۔ایک ہاتھ میں سوٹا اور ایک ہاتھ میں کشکول گدائی لئے پھرتے ہیں۔بدن پر ہندو فقیروں کی طرح راکھ ملی ہوئی ہوتی ہے معرفت الہی سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔قرآن شریف پر عمل تو الگ رہا ایک آیت بھی پڑھ نہیں سکتے دعا وی دیکھو تو کہو کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سب کا روبار خدائی انہیں سپر دکر کے آپ علیحدہ ہو گیا ہے یہ تو جہلاء کا گروہ ہے پیروں کی بھی ایسی ہی حالت ہے بعض تو فقط اپنی بہشت تو الگ رہی اپنے دستخطی رقعوں پر دوسروں کو بھی بہشت دلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی انکی حالت پر رحم کرے اور ہمیں اس پاک رسول کی اطاعت کی توفیق دے کہ اس کے بغیر نجات نہیں۔25