سیرت النبی ؐ — Page 241
کہیں۔اس کے متعلق میں اس جگہ ایک ایسے شخص کی گواہی پیش کرتا ہوں جس کو آپ کی مدینہ کی زندگی میں برابر دس سال آپ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔میری مراد حضرت انس سے ہے جن کو رسول کریم مالی نی یہ تم نے مدینہ تشریف لانے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپ کی وفات تک برابر آپ کی خدمت میں رہے۔ان کی نسبت امام بخاری روایت کرتے ہیں: عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِکِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ( بخاری کتاب الاستیذان باب التسليم على الصبيان ) یعنی حضرت انس ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپ نے ان کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ آنحضرت صلی یہ نام اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے۔تو ان کو سلام کہا کرتے تھے ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید ایک معمولی سی بات ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کرنے کا عادی ہو وہ اس شہادت سے رسول کریم سالی پیام کی منکسرانہ طبیعت کے کمال کو معلوم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔امراء کے لئے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے اور ممکن ہے کہ کبھی کبھار کوئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔پھر بچوں کو سلام میں ابتداء کرنا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کرنا بالکل محال ہے اور امراء کو بھی جانے دو۔کتنے بالغ و جوان انسان ہیں جو باوجود دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتداء کرنے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پاتے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کہتے تھے۔شاید ایسا آدمی جو اس پر تعہد سے قائم ہو اور ہمیشہ اس پر عمل کرتا ہوا ایک بھی 241