سیرت النبی ؐ — Page 232
وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوْهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ (بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفة اليلة القدر لتلاحي الناس ) یعنی رسول کریم صائینی ایتم ایک دفعہ اپنے گھر سے لیلتہ القدر کی خبر دینے کے لئے نکلے۔اتنے میں دو شخص مسلمانوں میں سے لڑ پڑے( یعنی جب آپ نکلے تو دو شخصوں کو لڑتے پایا ) اس پر آپ نے فرمایا کہ میں لیلتہ القدر کی خبر دینے کے لئے نکلا تھا لیکن فلاں ں شخص لڑ رہے تھے جسے دیکھ کر مجھے بھول گیا کہ وہ رات کب ہوگی۔خیر شاید یہ بھی تمہارے لئے اچھا ہو۔تم اسے انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔فلاں طہارۃ القفس۔تکبر سے اجتناب:- ایک مثال تو آپ کے تکبر سے بچنے کی میں پہلے دے چکا ہوں ایک اور دیتا ہوں اور انہی دونوں مثالوں پر کیا حصر ہے آنحضرت سلائی یہ ستم کا ایک ایک عمل اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ تکبر سے کوسوں دور تھے لیکن جیسا کہ میں ابتداء میں لکھ آیا ہوں اس سیرت میں میں نے صرف اس حصہ سیرت پر روشنی ڈالنی ہے جو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ بخاری سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور دوسرے جو واقعات پہلے بیان کئے جاچکے ہیں ان کے دوبارہ دہرانے سے بھی اجتناب کرنا مناسب ہے پس ان مجبوریوں کی وجہ سے صرف دو مثالوں پر ہی کفایت کی جاتی ہے جن میں سے ایک تو پہلے بیان ہو چکی ہے اور دوسری ذیل میں درج ہے حضرت ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں۔حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشَدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ ، فَمَرَ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتَهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتَهُ إِلَّا لِيَشْبِعَنِي، 232