سیرت النبی ؐ — Page 230
دشمنوں کی تکلیف سے بچایا تھا آج اگر وہ زندہ ہوتا تو ایسے خطرناک دشمنوں کو میں اس کی سفارش سے قید سے آزاد کر دیتا۔اور ہر ایک تکلیف سے امن دے دیتا۔طہارۃ النفس لڑائی سے نفرت:- بہت سی طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ وہ بہادری میں تو بیشک کمال رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان میں ایک قسم کی سختی پیدا ہو جاتی ہے۔اور ان کی بہادری در حقیقت لڑائی اور جھگڑے کا نتیجہ ہوتی ہے اور بجائے ایک خلقی خوبی کے ، عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض ایسے ممالک کے لوگ، جہاں امن و امان مفقود ہوتا ہے اور لوگ آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں۔عادتاً دلیر اور بہادر ہوتے ہیں لیکن ان کی بہادری کوئی نیک خلق نہیں ہوتی بلکہ روزانہ کی عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض جانور بھی بہادر ہوتے ہیں، اور یہ بات ان کے اخلاق میں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی پیدائش ہی ایسے رنگ میں کی گئی ہے کہ وہ بہادر ہوں مثلاً شیر چیتا وغیرہ پس جو انسان کہ عادتاً بہادر ہے یعنی ایسے حالات میں اس نے پرورش پائی ہے کہ اس کی طبیعت میں سختی اور لڑائی جھگڑے کی عادت ہو گئی ہے اس کی بہادری چنداں قابل قدر نہیں لیکن جو شخص کہ لڑائی اور جھگڑے سے نفرت رکھتا ہوں، موقعہ پر بہادری دکھائے اس کی بہادری قابل قدر ہے۔میں یہ تو پہلے بتا آیا ہوں کہ رسول کریم تم بے نظیر بہادر تھے اور کوئی شخص بہادری میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لڑائی اور جھگڑے سے سخت متنفر تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو عام طور پر لڑائی اور جھگڑا دیکھتے دیکھتے آپ کے اندر بہادری کی صفت پیدا ہوگئی تھی اور نہ ایسا تھا کہ جنگوں اور لڑائیوں کے باعث طبیعت میں ایسی سختی پیدا ہوگئی تھی کہ جھگڑے اور فساد کو طبیعت پسند کرنے لگے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونو باتیں اکثر ایک دوسرے کے 230