سیرت النبی ؐ — Page 223
ہیں لیکن انہی لوگوں میں بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ روز مرہ کے کاموں میں جو نسبتا کم اہمیت رکھتے ہوں یا ان کا دائرہ اثر ایسا وسیع نہ ہو جیسا کہ اول الذکر کا وہ استقلال نہیں دکھا ا سکتے۔بلکہ چند دن سے زیادہ ان کے ارادہ اور ان کے عمل کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔اس جماعت کے خلاف ایک ایسی بھی جماعت ہے۔جو چھوٹے اور محمد ودالاثر معاملات میں تو خوب استقلال سے کام کر لیتے ہیں۔لیکن جب کسی مہتم بالشان کام پر ان کو لگا یا جاوے تو ان کا استقلال جاتا رہتا ہے اور وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور مفوضہ کام کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہیں ہوتے۔پس ان دونوں گروہوں کو ہم گو صاحب استقلال تو کہیں گے لیکن ہمیں یہ بھی ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا۔کہ اگر ایک استقلال کی ایک قسم سے محروم ہے تو دوسرا دوسری سے اور حقیقی طور پر صفت استقلال سے متصف انسان وہی ہو گا جو دونوں صورتوں میں اپنے استقلال کو ہاتھ سے نہ دے۔اور خواہ امور مہمہ ہوں۔یا امور محدود الاثر ، اس کا استقلال اپنا اثر ظاہر کئے بغیر نہ رہے۔جب ہم آنحضرت سلیم کی سوانح عمری پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ استقلال کی ہر قسم میں کامل نظر آتے ہیں۔چنانچہ یہ بات کہ ان امور میں جنہیں آپ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے لیا تھا۔آپ کیسے مستقل مزاج ثابت ہوئے ہیں۔پہلے لکھ آیا ہوں۔اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شرک کی بیخ کنی اور حق کے پھیلانے میں ہی آنحضرت صلی سی ایتم نے استقلال کا اظہار نہیں کیا، بلکہ آپ کے تمام کاموں سے آپ کی کبھی نہ تھکنے والی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی اس عادت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتی ہیں: وَكَانَ يَقُوْلُ: خَذَوْا مِنَ الْعَمَلِ مَا تَطِيَقُوْنَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا وَأَحَبُّ الصَلٰوةِ إِلَى 223