سیرت النبی ؐ — Page 14
قصیدہ میں اس شاعر نے عمرو بن ہند کو مخاطب کر کے اپنے آزاد ہونے کا ذکر یوں کیا ہے :- الْيَقِينَا أَبَا هِنْدِ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْنَا وَأَنْظِرْنَا نُخَبّرگ اے ابا ہند تو ہمارے معاملہ میں جلدی نہ کر اور ہمیں ڈھیل دے ہم تجھے یقینی بات بتا ئیں گے بِيْضًا وَنُصْدِرُ هُنَّ حُمْرًا قَدْ رَوِيْنَا بانا تورد نُوْرِدُ الرَّايَاتِ وہ یہ کہ ہم سفید جھنڈوں کے ساتھ جنگ میں جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو وہ جھنڈے خون سے سرخ و سیراب ہوتے ہیں طِوَالٍ عَصَيْنَا الْمَلِكَ فِيهَا أَنْ نَدِينَا وَأَيَّامٍ غُرٍ اور بہت سے ہمارے مشہور اور دراز معر کے ہیں کہ ہم نے ان میں بادشاہ کی نافرمانی کی تا اس کے مطیع نہ ہو جائیں وَرِثْنَا الْمَجْدَ قَدْ عَلِمَتْ مَعَدُّ نُطَا عِنْ دُوْنَهُ حَتَّى يَبِيْنَا عرب جانتے ہیں کہ ہم بزرگی کے وارث ہیں اپنے شرف کے لئے لڑتے ہیں تا کہ وہ ظاہر ہو جائے الا لا يَعْلَمُ الْاقْوَامُ أَنَّا تَضَعُضَعْنَا وَأَنَّا قَدْ نہ سمجھ کہ ہم کمزور اور ر کاہل ہو وَنَيْنَا گئے ہیں خبر دار تو ہمیں أَلَا لَا يَجْهَلَنْ أَحَدٌ عَلَيْنَا فَنَجْهَلَ فَوْقَ جَهْلِ الْجَاهِلِيْنَا خبردار کوئی ہم پر جہالت سے ظلم نہ کرے ورنہ ہم ظالموں کے ظلم کا سخت بدلہ دیں گے بِأَيِّ مَشِيئَةٍ عَمْرَو بْنَ هِنْدِ نَكُونُ تُهَدِّدُنَا لِقَيْلِكُمْ فِينَا كنا لا مگ قَطِينَا کس وجہ سے عمرو بن ہند تو چاہتا ہے کہ ہم تیرے گورنر کے فرمانبردار ہو جا ئیں وَنُوْعِدُنَا رُوَيْدًا مَتَى مَقْتَوِيْنَا تو ہمیں ڈراتا ہے اور دھمکاتا ہے جانے بھی دے ہم تیری ماں کے خادم کب ہو ئے تھے فَإِنَّ قَنَاتَنَا يَا عُمْرُو أَغْيَتُ عَلَى الْأَعَدَاءِ قَبْلَكَ اَنْ تَلِيْنَا * اے عمرو ہمارے نیزوں نے انکار کیا ہے تجھ سے پہلے بھی کہ دشمنوں کے لئے نرم ہو جا ئیں ان اشعار کو دیکھو کس جوش کے ساتھ وہ بادشاہ کو ڈانٹتا ہے اور اپنی آزادی میں فرق آتا نہیں دیکھ سکتا۔جو حال بنی تغلب کا ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے وہی حال قریبا قریباً سب عرب کا تھا اور خصوصا قریش مکہ تو کسی کی ماتحتی کو ایک دم کے لئے بھی گوارہ نہیں کر سکتے سبعہ معلقات قصیده پنجم از عمرو بن کلثوم صفحه ۳۷ تا ۴۴ مطبع سعیدی کراچی نارمحمد سعید اینڈ سنز 14