سیرت النبی ؐ — Page 13
اپنے قابو میں لا سکا اور پھر بھی یہ حالت تھی کہ ذرا ذراسی بات پر وہ اسے صاف جواب دے دیتے تھے اور اس کے منہ پر کہہ دیتے تھے کہ ہم تیرے نو کر نہیں کہ تیری فرمانبرداری کریں چنانچہ لکھا ہے کہ عمر و بن ہند نے اپنے سرداروں سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ جس کی ماں میری ماں کی خدمت کرنے سے عار کرے۔اس کے مصاحبوں نے جواب دیا کہ ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے اور عرب قبیلہ بنی تغلب کا سردار ہے۔اس کی ماں بے شک آپ کی ماں کی خدمت سے احتراز کرے گی اور اسے اپنے لئے عار سمجھے گی جس پر بادشاہ نے ایک خط لکھ کر عمرو بن کلثوم کو بلوایا اور لکھا کہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لیتے آنا کیونکہ میری والدہ اسے دیکھنا چاہتی ہے۔عمرو بن کلثوم اپنی والدہ اور چند اور معزز خواتین کو لے کر اپنے ہمراہیوں سمیت بادشاہ کے خط کے بموجب حاضر ہو گیا بادشاہ کی والدہ نے حسب مشورہ اس کی والدہ سے کچھ کام لینا تھا۔دونوں زنان خانہ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔والدہ شاہ نے کسی موقع پر سادگی کے ساتھ کہہ دیا کہ ذرا فلاں قاب مجھے اٹھا دو۔عمر و بن کلثوم کی والدہ لیلی نے جواب دیا کہ جسے ضرورت ہو خود اٹھا لے۔اس پر والدہ شاہ نے مکہ راصرار کیا لیکن لیلی نے بجائے اس حکم کی تعمیل کے زور سے نعرہ مارا کہ وَاأَذِلَّاهُ يَا بَنِی تَغْلَب اے بنی تغلب دوڑ و کہ تمہاری ذلت ہوگئی ہے۔اس آواز کا سنا تھا کہ اس کے بیٹے عمر و بن کلثوم کی آنکھوں میں تو خون اتر آیا۔بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا گھبرا اٹھا۔چونکہ اپنے پاس تو کوئی ہتھیار نہ تھا ادھر ادھر دیکھا۔بادشاہ کی تلوار کھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی اس کی طرف جھپٹا اور تلوار میان سے نکال کر ایک ہی وار سے بادشاہ کا سراڑ دیا لیکن اس سے بھی جوش انتقام نہ اترا۔باہر نکل کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ شاہی مال و متاع لوٹ لو۔بادشاہ کی سپاہ تو غافل تھی اس کے سنبھلتے سنبھلتے لوٹ لاٹ کر صفایا کر دیا اور اپنے وطن کی طرف چلا آیا۔چنانچہ اپنے ایک 13