سیرت النبی ؐ — Page 209
دیکھ کر اظہار ناراضگی کرنا ہی کیا ہے؟ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ طریق تو انصاف پر مبنی تھا۔اور عقلاً،اخلاقاً ہماراحق تھا کہ ہم مذکورہ بالا شرط سے مشروط مقابلہ کا مطالبہ کریں لیکن اگر کوئی شخص دنیا کے تمام انسانوں میں بھی آپ جیسے باکمال انسان کو پیش کر سکے تو ہم اس کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ بے حیائی کا نام محمل ن رکھ لیا جاوے۔اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ بعض لوگ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو غصہ آتا ہی نہیں بلکہ جو معاملہ بھی ان سے کیا جائے وہ شکل ہی تحمل کرتے ہیں اور غضب کا اظہار کبھی نہیں کرتے۔اور اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جوش کو دبا لیتے ہیں یا تحمل سے کام لیتے ہیں بلکہ در حقیقت ان کے دل میں جوش پیدا ہی نہیں ہوتا۔اور انہیں کسی بات کی حقیقت کے سمجھنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ لوگ ہر گز کسی تعریف کے مستحق نہیں ہوتے۔کیونکہ ان کا تحمل صرف ظاہری ہے۔اس میں حقیقت کچھ نہیں ایک شکل ہے جس کی اصلیت کوئی نہیں۔ایک جسم ہے جس میں روح کوئی نہیں۔ایک قشر ہے جس میں مغز کوئی نہیں۔اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی ٹنڈے شخص کو کوئی دوسرا شخص مار مارے۔اور چونکہ اس کے ہاتھ نہیں ہیں وہ مار کھا کر صبر کر چھوڑے۔اور جس طرح یہ ٹنڈ ا قطعاً اس تعریف کا مستحق نہیں ہے کہ اسے تو زید یا بکر نے مارا مگر اس نے آگے سے ایک طمانچہ بھی نہ لگایا کیونکہ اس میں طمانچہ لگانے کی طاقت ہی نہ تھی۔کیونکہ اس کے ہاتھ نہ تھے۔اس لئے مجبور تھا کہ مارکھا تا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا۔اسی طرح وہ شخص بھی ہر گز کسی تعریف کا مستحق نہیں۔جس کے دل میں جوش اور حس ہی نہیں۔اور وہ بری بھلی بات میں تمیز ہی نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کا تحمل خوبی نہیں بلکہ اس کا باعث فقدان شعور ہے: پس ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ کیوں آنحضرت سلی یہ تم کوبھی ایسا ہی نہ خیال کر لیا جائے۔خصوصاً 209