سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 208

تحمل کی نظیر کسی اور انسان میں بتا سکے جو آنحضرت سال یا اسلام نے دکھایا میں یہ نہیں کہتا کہ آنحضرت کے سوا کوئی شخص تحمل کی صفت سے متصف ہوا ہی نہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس درجہ تک تحمل کا اظہار کرنے والا جس درجہ تک آپ نے ظاہر فرمایا کوئی انسان نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا کیونکہ آپ کمال کی اس سرحد تک پہنچ گئے ہیں کہ اس کے بعد کوئی ترقی نہیں۔ممکن ہے کہ کوئی صاحب کہیں کہ آپ بادشاہوں اور حاکموں کی کیوں شرط لگاتے ہیں اس مقابلہ کے میدان کو اور بھی کیوں وسیع نہیں کر دیتے کہ دنیا کے کل افراد کے تحمل کو سامنے رکھ کر مقابلہ کر لیا جائے کہ آیا کوئی انسان اس صفت میں آپ کی برابری کر سکتا ہے یا نہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ تحمل اسی انسان کا قابل قدر ہے جسے طاقت اور قدرت ہو جو شخص خود دوسروں کا محتاج ہو دوسروں سے خائف ہو اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپتا پھرتا ہو اسے دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی ہو اس کا تحمل بھی کوئی تحمل ہے اس کی زبان تو اس پر ظلم کرنے والوں نے بند کر دی ہے اور اس میں یہ طاقت ہی نہیں کہ ان کے حملوں کا جواب دے سکے پس جو حاکم نہیں یا بادشاہ نہیں یا دنیاوی لحاظ سے کوئی خاص عزت نہیں رکھتا اس کا تحمل کو ئی تحمل نہیں بلکہ بہت دفعہ ایک مغلوب الغضب انسان بھی اپنے ایذاء دہندوں کے خوف سے اپنے غضب کو دبا لیتا ہے۔اور گو دل ہی دل میں جلتا اور کڑھتا ہے اور جی ہی جی میں گالیاں دیتا اور کوستا ہے لیکن اظہار غضب کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے حق میں اور بھی مضر ہوگا پس آنحضرت کے مقابلہ میں اس شخص کے تحمل کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو آپ ہی کی طرح با اختیار اور طاقت رکھتا ہو اور پھر آپ ہی کی طرح مخمل دکھانے والا ہو اور نہ مثل مشہور ہے کہ زبر دست مارے اور رونے نہ دے ایساز بر دست جو کسی زبر دست کے پنجہ ستم میں گرفتار ہو اس نے قابل عتاب گفتگوسن کر یا ز بر دست سلوک 208