سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 12

اخلاق پر مجموعی بحث:- باب سوم پیشتر اس کے کہ میں آنحضرت صلی الیم کے اخلاق پاکیزہ کا فرداً فرداً ذکر کروں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون پر ایک مجموعی حیثیت سے بھی روشنی ڈالوں جس سے پڑھنے والے کو پہلے ہی سے تنبیہ ہو جائے کہ کس طرح آپ ہر پہلو سے کامل تھے اور اخلاق کی تمام شاخوں میں آپ دوسروں کی نسبت بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔اس بات کے مفصل ثبوت کے لئے تو انسان کو احادیث کا مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ جب آپ کا سلوک صحابہ سے اور ان کا عشق آپ سے دیکھا جائے تو بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔احمد مکی مدنی العربی مرحبا دل و جاں بادفدایت چیه عجب خوش لقبی لیکن اس جگہ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عرب ایک وحشی قوم تھی اور وہ کسی کی اطاعت کرنا حتی الوسع عار جانتی تھی اور اسی لئے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا انہیں گوارہ نہ تھا بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے۔یہاں تک کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں ان کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھیں لیکن ان کی وحشت اور آزادی کی محبت کو دیکھ کر وہ بھی عرب کو فتح کرنے کا خیال نہ کرتی تھیں۔عمر و بن ہند جیسا ز بر دست بادشاہ جس نے اردگرد کے علاقوں پر بڑا رعب جمایا ہوا تھا وہ بھی بدوی قبائل کو روپیہ وغیرہ سے بمشکل 12