سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 185

ہوجا تا ہے۔اے سوچنے والوسوچو تو سہی کہ اگر آنحضرت کو دنیا کی عزت اور رتبہ منظور تھا اور آپ کا سب کام دنیاوی جاہ و جلال حاصل کرنے کے لئے تھا تو آپ کے لئے کیا مناسب تھا۔کیا یہ کہ لوگوں میں اپنی عزت و شان کے بڑھانے کے لئے باتیں مشہور کراتے یا کہ معتقدین کو ایسا کرنے سے روکتے کیا وہ لوگ جو اپنی خواہش اور آرزو کے ماتحت دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں اسی طرح کیا کرتے ہیں۔کیا وہ بغیر امتیاز جھوٹ اور بیچ کے اپنی شان دو بالا نہیں کرنی چاہتے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک انسان کو بغیر اس کے اشارہ کے کچھ لوگ وہ شان دینا چاہتے ہیں جو اگر کسی انسان میں پائی جائے تو وہ مرجع خلائق بن جائے تو وہ انہیں روکتا ہے اور فورا کہہ دیتا ہے کہ اور اور باتیں کرو مگر ایسا کلام منہ پر نہ لاؤ جس سے اس وحدہ لاشریک ذات کی ہتک ہوتی ہو جو سب دنیا کا خالق و مالک ہے اور میری طرف وہ باتیں منسوب نہ کرو جو در حقیقت مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ہاں بتلاؤ تو سہی کہ اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ نہیں کہ وہ دنیا کی عزتوں کا محتاج نہ تھا بلکہ خدا کی رضا کا بھوکا تھا۔دنیا اس کی نظر میں ایک مُردار سے بھی کم حیثیت رکھتی تھی۔آرام و آسائش کے اوقات میں اپنے ہوش و حواس پر قابورکھنا کوئی بات نہیں۔انسان کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس پر کوئی مشکل پیش آئے اور پھر اس میں وہ اپنے حواس کو قائم رکھے اور بدحواس نہ ہو جائے۔آنحضرت کو اپنی عمر میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور بہادری اور جرأت میں آپ نے اپنے آپ کو بے نظیر ثابت کر دکھایا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے مختلف واقعات سے ثابت کر چکے ہیں ان مصائب و آسائش کے مختلف دوروں نے آپ کی عظمت اور جلال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہر حالت میں اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ظاہر کی ہے۔خواہ عسر کا زمانہ ہو یا لیسر کا۔آپ بے عیب ثابت ہوئے ہیں اور (185)