سیرت النبی ؐ — Page 183
یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک انسان ان تمام کمالات کا جامع ہو سکتا ہے۔بے شک بہت سے لوگوں نے جن کی زبان تیز تھی یا قلم رواں تھی تقریر وتحریر کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق کے بہت سے نقشہ کھینچے ہیں لیکن وہ انسان ایک ہی گزرا ہے جس نے صرف قول سے ہی نہیں بلکہ عمل سے اعلیٰ اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا اور پھر ایسا نقشہ کہ اس کی یاد چشم بصیرت رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ایک طرف دنیا کو ہم اپنی تعریف و مدح کا ایسا شیدا دیکھتے ہیں کہ خلاف واقعہ تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں اور جن کی مدح کی جاتی ہے بجائے نا پسند کرنے کے اس پر خوش ہوتے ہیں اور ایک طرف آنحضرت کو دیکھتے ہیں کہ ذرا منہ سے ایسا کلام سنا کہ جو خلاف واقعہ ہے تو باوجود اس کے کہ وہ اپنی ہی تعریف میں ہوتا اس سے روک دیتے اور کبھی اسے سننا پسند نہ فرماتے ہیں تفاوت راه از کجاست تا بکجا۔اہل دنیا کدھر کو جارہے ہیں اور وہ ہمارا پیارا کدھر کو جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے اور بے جا تعریف کرنے والے کو روک دیتے ہیں اور بادشاہ ہوں میں سے بھی ایسے آدمی گزرے ہیں مگر آپ کے فعل اور لوگوں کے فعل میں ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپ کے عمل کو دوسروں کے اعمال پر امتیاز عطا کرتا ہے انگلستان کے مؤرخ اپنے ایک بادشاہ ( کینوٹ ) کے اس فعل کو کبھی اپنی یاد سے اترنے نہیں دیتے کہ اس نے اپنے بعض درباریوں کی بے جا خوشامد کو نا پسند کر کے انہیں ایسا سبق دیا جس سے وہ آئندہ کے لئے اس سے باز آجائیں۔یعنی جب بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ سمندر بھی تیرے ماتحت ہے تو اس نے ان پر ثابت کر دیا کہ سمندر اس کا حکم نہیں مانتا۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ وہ ایک دنیا وی بادشاہ تھا اور روحانی بادشاہت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھانہ اسے روحانی حکومت (183)