سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 9

دائیں جانب کا لحاظ : آنحضرت سلیم (فداہ نفسی ) کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ ہمیشہ دائیں طرف کا لحاظ رکھتے۔کھانا کھاتے تو دائیں ہاتھ سے۔لباس پہنتے تو پہلے دایاں ہاتھ یا دایاں پاؤں ، ڈالتے۔جوتی پہنتے تو پہلے دایاں پاؤں پہنتے غسل میں پانی ڈالتے تو پہلے دائیں جانب۔غرض کہ ہر ایک کام میں دائیں جانب کو پسند فرماتے۔حتی کہ جب آپ کوئی چیز مجلس میں بانٹنی چاہتے تو پہلے دائیں جانب سے شروع فرماتے۔اور اگر اس قدر ہوتی کہ صرف ایک آدمی کی کفایت کرتی تو اسے دیتے جو دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔اور اس بات کا اتنالحاظ تھا کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حَلَبَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةَ دَاجِنٍ فِي دَارِئَ وَ شِيْبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِرِ الَّتِي فِي دَارِئ فَأَعْطِيَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِيْنِهِ أَعْرَابِيْ فَقَالَ عُمَرُ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِي أَعْطِ أَبَا بَكْرِ يَا رَسُوْلَ اللهِ عِنْدَكَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَ الَّذِي عَلَىٰ يَمِيْنِهِ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَن ( تجرید بخاری باب فی الشرب) یعنی میں نے رسول اللہ صل الی السلام کے لئے ایک بکری کا جو گھر میں رہتی تھی دودھ دوہا اور اس کے بعد دودھ میں اس کنویں سے پانی ملا یا جو میرے گھر میں تھا۔پھر رسول اللہ لایا یہ تم کو وہ پیالہ دیا گیا۔اس وقت آپ کے بائیں جا نب حضرت ابوبکر اور دائیں جانب ایک اعرابی تھا آپ نے اس میں سے کچھ پیا۔پھر جب پیالہ منہ سے ہٹایا تو حضرت عمرؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھا نہ دے دیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ لی لی تم ابوبکر آپ کے پاس بیٹھے ہیں انہیں دے دیجئے گا۔لیکن آپ نے اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھاوہ پیالہ دیا اور فرمایا کہ دایاں دایاں ہی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دائیں جانب 9