سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 161

کیسی سادہ زندگی ہے۔کیا بینظیر نمونہ ہے۔کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نو کر بھی نہ ہو۔اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہو گا کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کے غلامی کا فخر نہ رکھتاہو یہ نمونہ بھی نہیں دکھایا۔ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے۔مگر یہ نمونہ کہ دنیا کے اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا ، یہ بات آنحضرت مسی ہی ہم اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے مگر ملک عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں رو پید اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھنچے بغیر نہیں رہ سکتی۔عرب کے ملک میں اب بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں اور ان کے افسر یا امیر جس طرز رہائش کے عادی ہیں انہیں بھی جاننے والے جانتے ہیں۔خود شریف مکہ جنہیں صرف حجاز میں ایک حد تک دخل و تصرف حاصل ہے انہی کے دروازہ پر بیسیوں غلام موجود ہیں جو ہر وقت خدمت کے لئے دست بستہ ہیں مگر آنحضرت سارے عرب پر حکمران تھے۔یمن اور حجاز اور مجد اور بحرین تک آپکے قبضہ میں تھے مگر باوجود تمام عرب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت کرنے کے آپ کا گھر کے کاروبار خود کر نا اس پاکیزگی کی طرف متوجہ کر رہا (161)