سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 8

جذبات اور کئی طیبات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔بعض کھانے میں خاک ملا لیتے ہیں۔بعض گندی ہو جانے اور سڑ جانے کے بعد غذا استعمال کرتے ہیں۔بعض سارا دن سر ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور ایسی شکل بناتے ہیں کہ گو یا کسی ماتم کی خبر سنکر بیٹھے ہیں اور ہنسنا تو در کنار بشاشت کا اظہار بھی حرام سمجھتے ہیں۔لیکن ہمارا سر دار ساینی پیلم جسے خدا نے انسانوں کا رہنما بنا یا تھا وہ ایسا کامل تھا کہ کسی پاک جذبہ کو ضائع ہونے نہ دیتا ہنسی کے موقع پر ہنستا۔رونے کے موقع پر روتا، خاموشی کے موقع پر خاموش رہتا اور بولنے کے موقع پر بولتا، غرض کوئی صفت اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی کہ جسے اس نے ضائع ہونے دیا ہو اور اپنے عمل سے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی خدائی کو مٹانے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہے اور یہی اس کی ادا ہے جو ہر طبیعت اور مذاق کے آدمی کو موہ لیتی ہے اور کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ بے اختیار دل اس پر قربان ہوتا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ہنستے تھے لیکن اعتدال سے اور ہنسی کے وقت آپ کی طبیعت پر سے قابونہ اٹھتا بلکہ ہنسی طبعی حالت پر رہتی چنانچہ فرماتی ہیں کہ مَارَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهُوَ اتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ ( کتاب الادب باب التبسم والنحک) یعنی میں نے رسول صلی یا یہ تم کو اس طرح گلا پھاڑ کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کو انظر آنے لگ جائے بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے یعنی آپ کی ہنسی ہمیشہ ایسی ہوتی تھی کہ منہ نہ کھلتا تھا اور آپ افراط و تفریط دونوں سے محفوظ تھے۔نہ تو ہنسی سے بکلی اجتناب تھا اور نہ قہقہہ مار کر ہنتے کہ جس میں کئی قسم کے نقص ہیں۔آجکل تو میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان امراء میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ وہ اس زور سے قہقہہ مارتے ہیں کہ دوسرا سمجھے کہ شاید چھت اڑ جائے گی اور اس طرح وہ آجکل کے پیرزادوں کی ضد ہیں۔8