سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 160

سے آپ وہ تاثر حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مرجع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک وشبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط وکتابت کا سلسلہ شروع تھا ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا۔غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔حضرت عائشہ کی نسبت لکھا ہے کہ اَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُوْنَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِيْ فِي خِدْمَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلوةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلٰوۃ ( بخاری کتاب الصلوۃ باب من كان في حاجة اهله فاقيمت الصلوة فخرج) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی یا اب تم گھر میں کیا کرتے تھے آپ نے جواب دیا کہ آپ اپنے اہل کی مہنت کرتے تھے۔یعنی خدمت کرتے تھے۔پس جب نماز کا وقت آجاتا آپ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کرا دیتے۔اللہ اللہ (160)