سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 159

ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور ان کے گھروں میں جو کچھ سامان طرب جمع کئے جاتے تھے اسے شاہنامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں ان سامانوں کی تفصیل کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ در بارشاہی کی قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کا نقشہ زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدان در بار کوشاہی باغوں کا مماثل بنادیا جاتا تھا۔ہزاروں خدام اور غلام شاہ ایران کے ساتھ رہتے اور ہر وقت عیش و عشرت کا بازار گرم رہتا۔رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان وشوکت کے شیدانہ تھے تو مغربی آرائش اور زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس طریق سے خرچ کیا ہے پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقع تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش وعشرت اسے لبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔آنحضرت کا بادشاہ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دام تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاکبازوں کا سردار اور طہارت النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔علاوہ اس کے کہ آپ کے ارد گرد بادشاہوں کی زندگی کا جو نمونہ تھاوہ ایسا نہ تھا کہ اس 159