سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 154

میں یہ نقشہ ہمیشہ سے قائم ہے اور سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت ہو اور بہت کم لوگ اس بناوٹ سے بچ سکتے ہیں۔ہمارے بادی اور رہنما آنحضرت سال اسلام تو رحمتہ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کل دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں۔آپ نے اپنے طریق عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذبات نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کود با نا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو ابھارنا چاہئے۔اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھپا نا نہیں بلکہ ان کا مارناضروری ہے۔پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا کرنا ہماے دین اور دنیا کے لئے مفید تھا ہم غلط کار ہیں اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دین اسلام کے رو سے ہمارے لئے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے ورنہ دراصل ان کے شائق ہیں تو یہ نفاق ہے۔اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت و عظمت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ شرک ہے۔آنحضرت کی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لئے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت وذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہو اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نہایت 154