سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 152

ہیں کہ اگر تکلف اور بناوٹ سے ہم اپنی خاص شان نہ بنائے رکھیں گے تو ماتحتوں میں بھی ہماری عزت نہ ہوگی اور اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہوں گے اسی لئے بہت سے مواقع پر سادگی کو برطرف رکھ کر بناوٹ سے کام لیتے ہیں اور ہزاروں موقعوں پر اپنے مافی الضمیر کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔میں ایک مجلس میں شامل ہو ا جہاں بہت سے بڑے بڑے لوگ جمع تھے جو اس وقت ہندوستان میں خاص شہرت رکھتے ہیں اور بعض ان میں سے لیڈران قوم کہلاتے ہیں۔ان میں سے کچھ ہندو تھے کچھ مسلمان۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو ایک بیرسٹر صاحب نے کہا ایک مدت ہو گئی کہ تکلف کے ہاتھوں میں تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ہر وقت بناوٹ سے اپنے آپ کو سنجیدہ بنائے رکھنا پڑتا ہے اور بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے مگر تکلف مانع ہوتا ہے کیونکہ وہ شان قائم نہیں رہتی مگر اب میں بالکل تنگ آگیا ہوں۔اس زندگی کا فائدہ کیا۔ایک دوسرے صاحب بولے کہ بے شک میرا بھی یہی حال ہے اور میں تو اب اس زندگی کو جہنم کا نمونہ پاتا ہوں پھر تو سب نے یہی اقرار کیا اور تجویز ہوئی کہ آج کی مجلس میں تکلف چھوڑ دیا جائے اور بے تکلفی سے آپس میں بات چیت کریں اور بناوٹ نزدیک نہ آئے۔مگر خدا تعالیٰ انسان کو اس سادگی سے بچائے جو اس وقت ظاہر ہوئی۔اسے دیکھ کر معلوم ہوسکتا تھا کہ آج دنیا کی کیا حالت ہے کیونکہ جس قدر قوم کے لیڈر یہ نمونہ دکھا رہے تھے اس کے عوام نے کیا کمی رکھی ہو گی۔کلام ایسا نخش کہ شریف آدمی سن نہ سکے۔مذاق ایسا گنده که سلیم الفطرت انسان برداشت نہ کر سکے۔باتوں سے گزر کر ہاتھوں پر آگئے اور ایک دوسرے کے سر پر چپتیں بھی رسید ہونی شروع ہو گئیں۔پھر میوہ کچھ کھا رہے تھے اس کی گٹھلیوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ الامان۔میں نے تو سمجھا کہ اس گولہ باری میں میری خیر نہیں ایک کو نہ میں ہو کر بیٹھ گیا۔اور جب یہ سادگی ختم ہوئی تو میری جان 152