سیرت النبی ؐ — Page 151
مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمان حکومتوں میں ہی حکام کے منہ چڑھ کر لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور سفارشوں سے جو کام نکلتے ہیں لیاقت سے نہیں نکلتے۔اگر مسلمان حکام اس طرف غور کرتے تو آج اسلامی حکومتوں کا وہ حال نہ ہوتا جو ہے۔اور پھر آنحضرت جن لوگوں کی نسبت یہ احتیاط برتتے تھے ویسے لوگ بھی تو آجکل نہیں۔صحابی تو وہ تھے کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنے مال اور جانیں بھی لٹا دیں وہ دوسروں کے اموال کی طرف کب نظر اٹھا کر دیکھ سکتے تھے۔مگر آجکل تو دوسروں کے اموال کو شیر مادر سمجھا جاتا ہے۔پھر جب آنحضرت ا ایتم ایسے پاکباز لوگوں کی نسبت بھی ایسے احتیاط برتتے تھے تو آجکل کے زمانہ کے لوگوں کی نسبت تو اس سے بہت زیادہ احتیاط کی جانی چاہئے۔سادگی ایک نعمت ہے:۔اس زمانہ میں لوگ عام طور پر تکلف کی عادت میں بہت مبتلا ہیں اور اس زمانہ کی خصوصیت نہیں جو قوم ترقی کر لے اس میں تکلف اپنا دخل کر لیتا ہے۔دولت اور مال اور عزت کے ساتھ ساتھ تکلف بھی ضرور موجود ہوتا ہے اور بڑے آدمیوں کو کچھ نہ کچھ تکلف سے کام لینا پڑتا ہے لیکن جو مزا سادگی کی زندگی میں ہے وہ تکلف میں نہیں۔اور گو تکلف ظاہر میں خوشنما معلوم ہومگر اندر سے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ذوق نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ ؎ اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر - : - آرام سے ہیں وہ جو تکلف نہیں کرتے تکلف کی وجہ سے لاکھوں گھرانے برباد ہو جاتے ہیں اور تصنع اور بناوٹ ہزاروں کی بر بادی کا باعث ہو چکے ہیں مگر چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تکلف کے سوا ہماری عزت نہیں ہوتی برابر اس مرض میں مبتلا چلے جاتے ہیں اور کچھ علاج نہیں کرتے۔بادشاہ اور امراء یہ سمجھتے (151)