سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 144

اموال اور غلاموں کو تقسیم کر دیا تقسیم کے بعد ہوازن کا وفد بھی آپہنچا اور رحم کا طلبگار ہوا اور اپنا حق بھی بتا دیا کہ یہ قیدی غیر نہیں ہیں بلکہ جناب کے ساتھ کچھ رشتہ اور تعلق رکھتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں ان قیدیوں میں شامل ہیں جس میں کسی عورت کا حضور نے دودھ بھی پیا ہے اور اس لحاظ سے وہ آپ کی مائیں اور خالائیں اور کھلائیاں اور دائیاں کہلانے کی مستحق ہیں پس ان پر رحم کر کے قیدیوں کو آزاد کیا جائے اور اموال واپس کئے جائیں۔تقسیم سے پہلے تو حضور ضرور ہی ان کی درخواست کو قبول کر لیتے اور آپ کا طریق عمل ثابت کرتا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی رحم کا معاملہ پیش ہوا ہے حضور سرور کائنات نے بینظیر رحم سے کام یہ مشکل پیش آگئی تھی کہ اموال و قیدی تقسیم ہو چکے تھے اور جن کے قبضہ میں وہ چلے گئے تھے اب وہ ان کا مال تھا۔اور گو وہ لوگ اپنی جان و مال کو اس حبیب خدا کی مرضی پر قربان کرنے کیلئے تیار تھے اور انہوں نے سینکڑوں موقعوں پر قربان ہو کر دکھا بھی دیا مگر پھر بھی ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔کچھ کمزور اور ناتوان ہوتے ہیں کچھ قوی دل اور دلیر اس لئے حضور نے اس موقع پر نہایت احتیاط سے کام لیا اور بجائے اس کے کہ فور أصحابہ کو کو حکم دیتے کہ ہوازن سے میرا رضاعی رشتہ ہے تم ان کے اموال اور قیدی رہا کر دو اول تو خود ہوازن کو ہی ملامت کی کہ تم نے دیر کیوں کی اگر تم وقت پر آ جاتے تو جس طرح اور عرب قبائل سے سلوک کیا کرتے تھے تم پر بھی احسان کیا جاتا اور تمہارا سب مال اور قیدی تم کومل جاتے مگر خیر اب تم کو اموال اور قیدیوں میں سے ایک چیز دلا سکتا ہوں اور اس فیصلہ سے آنحضرت نے گویا نصف بوجھ مسلمانوں پر سے اٹھا دیا اور فیصلہ کر دیا کہ دو میں سے ایک چیز تو انہیں کے ہاتھ میں رہنے دی جائے اور جب ہوازن نے قیدیوں کی واپسی کی درخواست کی تو آپ نے پھر بھی مسلمانوں کو سب قیدی واپس کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ کہہ دیا 144