سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 143

اور عرض کیا کہ سب لوگوں نے دل کی خوشی سے بغیر کسی عوض کی طمع کے اجازت دے دی ہے کہ آپ غلام آزاد فرما دیں۔اس جگہ یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت جس قبیلہ میں پہلے تھے اور جس میں سے آپ کی دائی تھیں وہ ہوازن کی ہی ایک شاخ تھی۔پس ایک لحاظ سے ہوازن کے قبیلہ والے آپ کے رشتہ دار تھے اور ان سے رضاعت کا تعلق تھا چنانچہ جب وفد ہوازن آنحضرت کی خدمت میں پیش ہوا تو اس میں سے ابو برقان اسعدی ( آنحضرت کی دائی حلیمہ سعد قبیلہ میں سے ہی تھیں) نے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رَسُولَ اللَّهِ انَ فِي هَذِهِ الْحَطَائِرِ إِلَّا أُمَّهَا تَكَ وَخَالَا تُكَ وَ حَوَاضِنَكَ وَمُرْ ضِعَا تُكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَیک۔یا رسول اللہ ان احاطوں کے اندر حضور کی مائیں اور خالہ اور کھلا یاں اور دودھ پلائیاں ہی ہیں اور تو کوئی نہیں پس حضور مہم پر احسان فرما ئیں اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔پس ہوازن کے ساتھ آپ کا رضاعی تعلق تھا اور اس وجہ سے وہ اس بات کے مستحق تھے کہ آنحضرت ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے۔چنانچہ آپ نے اسی ارادہ سے دس دن سے زیادہ تک اموال غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم نہیں کیا اور اس بات کے منتظر رہے کہ جو نہی ہوازن پشیمان ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنے اموال اور قید یوں کو طلب کریں تو آپ واپس فرما دیں کیونکہ تقسیم غنائم سے پہلے آپ کا حق تھا کہ آپ جس طرح چاہتے ان اموال اور قیدیوں سے سلوک کرتے خواہ بانٹ دیتے خواہ بیت المال کے سپر دفرماتے۔خواہ قیدیوں کو آزاد کر دیتے اور مال واپس کر دیتے مگر باوجود انتظار کے ہوازن کا کوئی وفد نہ آیا جو اپنے اموال اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا اس لئے مجبور ادس دن سے زیادہ انتظار کر کے طائف سے واپس ہوتے ہوئے جعرانہ میں آپ نے ان (143)