سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 140

وہ بچے تھے اور ابھی کم سن تھے مگر بظاہر حالات ان کے ایمانوں کے اندازہ کرنے سے کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس پر کبھی متأسف نہ ہوں گے مگر پھر بھی رسول کریم ﷺ نے مناسب نہ الله جانا کہ امکانی طور پر بھی ان کو ابتلاء میں ڈالا جائے اور اسی بات پر اصرار کیا کہ وہ قیمت وصول کریں اور اگر چاہیں تو اپنی زمین فروخت کر دیں ورنہ آپ نہیں لیں گے۔آخر آپ کے اصرار کو دیکھ کر ان بچوں اور ان کے والیوں نے قیمت لے لی اور وہ زمین آپ کے پاس فروخت کر دی۔آجکل دیکھا جاتا ہے کہ یتامی سے بھی لوگ چندہ وصول کرتے ہیں اور بالکل اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ شاید ان کو بعد ازاں تکلیف ہو اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بالکل خدا کا خوف نہیں کرتے مگر رسول کریم نے اپنے طریق عمل سے بتادیا کہ باوجود اس کے کہ آپ حقدار تھے اور اہل مدینہ کے مہمان تھے آپ نے ان یتامی سے بغیر قیمت زمین لینے سے انکار کر دیا اور باصرار قیمت ان کے حوالہ کی۔افسوس کہ کامل اور اکمل نمونہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے عمل میں سستی کر دی ہے اور یتامی کے اموال کی قطعاً کوئی حفاظت نہیں کی جاتی۔ان کے اموال کی حفاظت تو الگ رہی خود محافظ ہی یتامی کے مال کھا جاتے ہیں اور اس احتیاط کے قریب بھی نہیں جاتے جس کا نمونہ رسول کریم نے دکھایا ہے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّالَيْهِ رَجِعُوْنَ۔بنو ہوازن کے اموال :۔یتامی کے اموال کے لینے سے رسول کریم نے جس احتیاط سے انکار کر دیا اور باوجود اصرار کے مسجد کے لئے بھی زمین کا لینا پسند نہ کیا وہ تو پچھلے واقعہ سے ظاہر ہے۔اب ایک اور واقعہ اس قسم کا لکھتا ہوں۔ہوازن کے ساتھ جب رسول کریم ﷺ کا مقابلہ ہوا تو ان کے بہت سے مرد اور عورتیں قید ہوئے اور بہت سا مال بھی صحابہ کے قبضہ میں آیا۔چونکہ (140