سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 139

کام اللہ تعالیٰ کے سپرد تھے اور ہر ایک فعل میں آپ اسی پر اتکال کرتے تھے اس لئے آپ نے اپنی رہائش کے لئے ایسی جگہ کو پسند کیا جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو رکھنا پسند کرے اور بجائے خود جگہ پسند کرنے کے اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیا کہ خدا تعالیٰ جہاں اسے کھڑا کرے وہیں مسجد بنائی جائے اور وہیں رہائش کا مکان بنایا جائے۔اب جس جگہ آپ کی اونٹنی کھڑی ہوئی وہ دو یتیموں کی جگہ تھی اور وہ بھی آپکے خدام میں تھے اور ہر طرح آپ پر اپنا جان و مال قربان کر نے کے لئے تیار تھے اور بطور ہبہ کے وہ زمین پیش کرتے تھے مگر باوجود اس کے کہ آپ اہل مدینہ کے مہمان تھے اور وہ لڑکے مہمان نوازی کے ثبوت میں آپ کو وہ زمین مفت دینا چاہتے تھے آپ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ وہ احتیاط تھی جو آپ کے تمام کاموں میں پائی جاتی تھی۔اول تو آپ یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ نابالغ بچوں سے بغیر معاوضہ کے زمین لیں کیونکہ ممکن تھا کہ وہ بچپن کے جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں زمین پیش کر دیتے لیکن بڑے ہو کر ان کے دل میں افسوس ہوتا کہ اگر وہ زمین ہم بیچ دیتے یا اس وقت ہمارے پاس ہوتی تو وہ زمین یا اس کی قیمت ہمارے کام آتی اور ہماری معیشت کا سامان بنتی۔اس احتیاط کی وجہ سے اس خیال سے کہ ابھی یہ بچے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھ سکتے آپ نے اس زمین کے مفت لینے سے بالکل انکار کر دیا۔گو وہ لڑکے اپنے ایمان کے جوش میں زمین ہبہ کر رہے تھے اور اگر آپ اسے قبول کر لیتے تو بجائے افسوس کرنے کے وہ اس پر خوش ہوتے کیونکہ صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی جوانوں سے کم نہ تھے اور چودہ پندرہ سال تک کے بچے مال تو کیا جان دینے کے لئے تیار ہو جاتے چنانچہ بدر کی جنگ میں دو ایسے بچے بھی شامل ہوئے تھے۔پس باوجود اس کے کہ (139