سیرت النبی ؐ — Page 138
بعد میں مسجد نبوی تیار کی گئی اور اس وقت وہاں مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔اس مقام پر کھجور میں سکھائی جاتی تھیں۔اور وہ دو یتیم لڑکوں کا تھا جن کا نام سہیل اور سہل تھا اور جو سعد بن زرارہ کی ولایت میں پلتے تھے۔جب یہاں آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا کہ ان شاء اللہ یہاں ہی ٹھہریں گے۔پھر رسول کریم صلی ا یہ تم نے ان دونوں لڑکوں کو بلوایا اور ان سے چاہا کہ اس جگہ کی قیمت طے کر کے انہیں قیمت دے دیں تا کہ وہاں مسجد بنا ئیں۔اور دونوں لڑکوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم قیمت نہیں لیتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں مگر رسول اللہ صلی ا یہ تم نے ہبہ لینے سے انکار کیا اور آخر قیمت دے کر اس جگہ کو خریدلیا۔اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلا خیال آپ کو یہی آیا کہ مسجد بنائیں اور پہلے آپ نے اس کے لئے کوشش شروع کی اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جو جوش تھا اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ جاتا ہے۔دوسرے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ آپ معاملات میں کیسے محتاط تھے۔اہل مدینہ نے بار بار درخواست کر کے آپ کو بلایا تھا اور خود جا کر عرض کی تھی کہ آپ ہمارے شہر میں تشریف لائیں اور ہم آپ کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں گے اور جان ومال سے آپ کی خدمت کریں گے اور جہاں تک ہماری طاقت ہو گی آپ کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں گے۔غرض کہ بار بار کی درخواستوں اور اصرار کے بعد آپ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تشریف لائے اور مدینہ والوں کا فرض تھا کہ آپ کو جگہ دیتے اور حق مہمان نوازی ادا کرتے اور مسجد بھی تیار کراتے اور آپ کی رہائش کے لئے بھی مکان کا بندوبست کرتے اور وہ لوگ حق کو سمجھتے بھی تھے اور ہر طرح خدمت کے لئے حاضر تھے مگر چونکہ آپ کے تمام (138)