سیرت النبی ؐ — Page 118
جائے لوگوں کی باتیں سنکر ان پر حوصلہ نہ ہار دے۔مخالف کی باتوں کو ایک حد تک برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔اسے صاحب وقار کہیں گے۔اور جور ذیل لوگوں کی صحبت میں رہتا ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑ جاتا ہو، ذرا ذراسی تکلیف پر گھبرا جاتا ہو، چھوٹے چھوٹے مصائب پر ہمت ہار بیٹھتا ہو وہ صاحب وقار نہیں ہوگا۔خواہ اسکے پاس کتنی ہی دولت ہو اور کیسے ہی عظیم الشان عہدہ پر مقرر ہو۔پس گو وقار کے معنوں میں عظمت اور بڑائی بھی ہے مگر میری اس جگہ وقار سے وہی مراد ہے جو میں نے پہلے بیان کر دی ہے۔۔آنحضرت صلی لا سلیم کو جو عہدہ اور شان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی وہ دنیا وی بادشاہوں سے کسی صورت میں کم نہ تھی اور گو آپ خود اپنے زہد وتقویٰ کی وجہ سے اپنی عظمت کا اظہار نہ کرتے ہوں لیکن اسمیں کچھ شک نہیں کہ آپ ایک بادشاہ تھے اور تمام عرب آپ کے ماتحت ہو گیا تھا اور اگر آپ ان سب طریقوں کو اختیار کر لیتے جو اس وقت کے بادشاہوں میں مروج تھے تو دنیاوی نقطۂ خیال سے آپ پر کوئی الزام قائم نہیں ہوسکتا تھا اور آپ دنیاوی حکومتوں کی نظر میں بالکل حق بجانب ہو تے لیکن آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے نہ تھی جو شہروں اور ملکوں پر حکومت کے نام سے مشہور ہے بلکہ دراصل آپ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے تھی جو آپ کو اپنے دل پر حاصل تھی۔جو آپ کو دوسرے لوگوں کے دلوں پر حاصل تھی۔آپ نے باوجود بادشاہ ہونے کے اس طریق کو اختیار نہ کیا جس پر بادشاہ چلتے ہیں اور اپنی عظمت کے اظہار کے لئے وہ نمائشیں نہ کہیں جو سلطان کیا کرتے ہیں کیونکہ آپ نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے اور بادشاہ ہوکر جو معاملہ آپ نے اتباع سے کیا وہ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپ کا نفس کیسا پاک تھا اور ہر قسم کے بداثرات سے کیسا منز ہ تھا۔(118)