سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 117

ہیں۔ایک ہی نسخہ ہوتا ہے جسے طبیب بھی بتاتا ہے اور ایک بڑھیا بھی بتاتی ہے لیکن وہ طبیب تو حکمت کی بناء پر اسے تجویز کرتا ہے اور بڑھیا صرف اس وجہ سے کہ اس کے کسی رشتہ دار کو کبھی اس سے فائدہ پہنچا تھا۔یہی فرق روحانیت کے مدارج میں بھی ہوتا ہے۔بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرتے ہیں مگر ان کے افعال کی بناء جہالت پر ہوتی ہے اور وہ حکمت سے کام نہیں لیتے مگر رسول کریم صلی ایام کے تمام کاموں کی بناء علم پر تھی۔آپ خوب جانتے تھے کہ کسی چیز سے اپنی طاقت سے زیادہ کام لینے کے یہ معنے ہیں کہ اسے ہمیشہ کے لئے کام سے معطل کر دیا جائے۔اس لئے آپ اپنے قومی کو برحل اور بر موقع استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ سب مقابلہ کرنے والوں سے آگے نکل گئے اور کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوا جو آپ سے آگے نکلنا تو کجا آپ کی برابری بھی کر سکے۔اللَّهُمَّ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وقار :- وقار ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں عالی حوصلگی چلم اور بڑائی ، چونکہ لوگ عام طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے معانی سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے معنے کردوں تا کہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ جب میں وقار کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو اس سے میری مراد کیا ہوتی ہے۔چونکہ عام طور سے یہ لفظ اردو میں عزت کے معنے میں استعمال ہونے لگا ہے اور عام لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑے وقار والا ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بڑی عزت والا ہے یا معزز ہے لیکن در اصل اس لفظ سے گو بڑائی اور عزت کے معنی نکلتے ہیں لیکن اس سے مراد نفس کی بڑائی ہوتی ہے یعنی جس شخص میں چھچھورا پن، کمینگی اور ہلکا پن نہ ہو۔ذرا ذراسی بات پر چڑ نہ (117)