سیرت النبی ؐ — Page 116
لوگوں سے زیادہ آپ اس سے بچتے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ آسان راہ کو اختیار کیا کرتے تھے اور تکلیف میں اپنے آپ کو نہ ڈالتے۔ایک خیال جو اس حدیث سے پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا آپ خدا کے راستہ میں مشقت نہ برداشت کر سکتے تھے (نعوذ باللهِ مِنْ ڈلگ) اس کا رد بھی خود حضرت عائشہ نے فرما دیا کہ یہ بات اس وقت تک تھی کہ جہاں دین کا معاملہ نہ ہو۔اگر کسی موقع پر آسانی اختیار کرنا دین میں نقص پیدا کرتا ہو تو پھر آپ سے زیادہ اس آسانی کا دشمن کوئی نہ ہوتا۔یہ وہ کمال ہے جس سے آپ کی ذات تمام انبیاء پر فضیلت رکھتی ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے لیکن آپ ہر رنگ میں کامل تھے۔کوئی پہلو بھی تو انسانی زندگی کا ایسا نہیں جس میں آپ دوسروں سے پیچھے ہوں یا ان کے برابر ہوں۔ہر بات میں کمال ہے اور دوسروں سے بڑھ کر قدم مارا ہے اور ہر خوبی کو اپنی ذات میں جمع کر لیا ہے۔بے شک بہت سے لوگ ہیں کہ جو اپنی جان کو آرام میں رکھتے ہیں مگر خدا کو ناراض کرتے ہیں۔لوگوں کو خوش کرتے ہیں۔بعض خدا کو راضی کرنے کی کوشش میں اپنے نفس کو ایسے مصائب میں ڈالتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب بھی نصیب نہیں ہوتا اور آگے سے بھی گمراہ ہوتے جاتے ہیں مگر میرا پیار ابادی تو ساری دنیا کے لئے ہادی ہو کر آیا تھا وہ کسی خاص طرز یا مذاق کے لوگوں کا رہبر نہ تھا۔ہر ملک اور قوم کے آدمی اسکی غلامی میں آئے تھے اس نے اپنے اخلاق کا ایک ایسا بے لوث اور مکمل نمونہ دکھا یا ہے کہ کوئی آدمی اس کی غلامی میں آئے ناکام و نامراد نہیں رہتا بلکہ اپنے کامل دلی مقصد اور مدعا کو پالیتا ہے۔در حقیقت تعصب کو ایک طرف رکھ کر اگر دیکھا جائے تو آپ کی یہ صفت ایک ایسی حکیمانہ صفت تھی کہ اس پر جس قدر غور کیا جائے اس کے فوائد زیادہ روشن ہوتے جاتے (116)