سیرت النبی ؐ — Page 115
وہ بھی ہماری ہی طرح تھے اور نعوذ باللہ ان کے دل ہماری طرح ہی تاریک تھے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔ان واقعات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بے فائدہ مشقت بھی خطرناک ہوتی ہے اور نفس کو ایسے ابتلاؤں میں ڈالنا کہ جو غیر ضروری ہیں بجائے فائدے کے مہلک ثابت ہوتا ہے۔اسی لئے آنحضرت مایا یہ تم جو تمام دنیا کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے اپنے صحابہ کو روکتے تھے کہ وہ اپنے نفوس کو حد سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں چنانچہ لکھا ہے کہ ایک صحابی ایک دوست کے ہاں گئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ سارا دن روزہ رکھتا اور رات کو تہجد میں وقت گزارتا ہے۔اس پر انہوں نے انہیں ڈانٹا جس پر یہ معاملہ آنحضرت سلی ایام کے پاس پہنچا آپ نے فرمایا اس نے ٹھیک ڈانٹا کیونکہ انسان پر بہت سے حقوق ہیں ان کا پورا کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔خود آنحضرت کا عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ احکام الہی کے پورا کرنے میں چست رہتے اور ایسے جوش کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے کہ جو ان جوان صحابہ آپ کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے جیسا کہ میں باتفصیل آپ کی عبادت کے ذکر میں لکھ آیا ہوں لیکن باوجود اس کے آپ آسان راہ کو قبول کرتے اور اپنے نفس کو بے فائدہ دکھ نہ دیتے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت تک عبادت کرو جب تک دل ملول نہ ہو جائے۔حضرت عائشہ آپ کے اعمال کی نسبت فرماتی ہیں مَا خَیرَ رَسُوْلُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَالَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ( بخاری کتاب بدء الخلق باب صفة النبی ﷺ ) رسول اللہ مالی ایم کو کسی دو باتوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ نے اسے قبول کیا جو دونوں میں سے آسان تر تھی بشر طیکہ گناہ نہ ہو اور اگر کسی کام میں گناہ ہوتا تو سب رض (115)